Sunday, 6 December 2015

غزل

ترے ہی خوابوں میں تیرے ہی خیالوں میں
الجھ گیا میں ترے پیار والے جالوں میں
کبھی تو دیکھ ذرا میری اور جانِ جاں
مجھے نکال پھنسا ہوں خراب حالوں میں
محبّتوں کے جوابات چاہئے تجھ کو
کوئی جواب نہیں ہوتا ان سوالوں میں
کلاس روم میں وہ پین ڈھونڈتی پھرتی
مگر وہ پین لگا رہتا اس کے بالوں میں
اکیلےپن کے اندھیروں سے پیار ہے مجھ کو
میں لٹ چکا ہوں یہاں حسن کے اجالوں میں
یہ میرے ہونٹ کھنچے آتے ہیں تری جانب
عجب کشش ہے ترے گورے گورے گالوں میں
کہ گھنٹوں جیسے منٹ اور منٹ مہینوں میں
تری جدائی کے دن کٹ رہے ہیں سالوں میں

No comments:

Post a Comment